جنگ احد کا ایک شہید


جنگ احد کا ایک شہید
میدان احد میں جنگ جاری تھی اور لاشیں خاک و خون میں تڑپ رہی تھی عالم یہ تھا کے بڑ ے بڑ ے صحابی حملہ کی تاب نہ لا کر پیچھے ہٹ رہے تھے اور میدان خالی ہو رہا تھا . انس بن نظر میدان میں کھڑے یہ کہ رہے تھے . اے اللہ میں مسلمانوں کے اس فرار کی معذرت تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوں اور کفار کی اس سر کشی اور عدوان سی اظہار برات کرتا ہوں . شمشیر ہاتھ میں تھی جسے لے کر اگے بڑہے  سامنے سعید بن معاذ رضہ ملے . بولے ابو سعید دیکھو سامنے جنّت ہے . رب کعبہ کی قسم ! مجہے احد کی طرف سے جنّت کی خوشبو ا رہی ہے . سعید رضہ کہتے ہیں میں تو یہ والہانہ گفتگو سن کر بی قرار ہو گیا جس وقت حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی غلط خبر سنی تو سب کی ہمتیں چھوٹ گئی بڑے بڑے صحابی تلواریں چھوڑ کی مایوس ہو کر بیٹھ گے انس بن رضہ بی دیکھا اور فرمایا سب نے جواب دیا کے رہبر عالم نہ رہے تو ہم کس پر فدا ہوں . انس رضہ نے جوش میں ا کر کھا ! تم بھی اس کم پر قربان ہو جو جس پر للہ کے رسول صلی للہ علیہ وسلم قربان ہو گے یہ کہ کر مشرکین کی صفحوں کی طرف بڑھے اور بی شمار کفار کو داخل فی النار کی دیا اور خود بھی سخت مقابلے کے بعد شہید ہو گے .
راوی بیان کرتے ہیں جب لاشوں کو جمع کیا گیا تو ٨٠ سے زیادہ زخم اپ کے جسم مبارک پر موجود تھے کسی سے پہچانے نہیں جا رہے تھے اپ کو انگلیوں کے پوروں سے شناخت کیا گیا 

No comments:

Post a Comment